اولمپک مشعل کی دوڑ ویت نام میں شروع ہو گئی ہے جہاں عہدے داروں نے ممکنہ چین مخالف مظاہرے کے خلاف حفاظتی اقدام کے لیے سیکیورٹی میں اضافہ کر دیا ہے۔گزشتہ روز ہو چی من سٹی میں جب دوڑ شروع ہوئی توچین کے سینکڑوں حامیوں نے چینی پرچم لہرا کر پرمسرت نعرے لگائے۔ ویت نام میں جومشعل کی بین الاقوامی دوڑ کا آخری مرحلہ ہے، مظاہروں کے بارے میں کوئی خبر نہیں ملی ہے۔مشعل کو دنیا بھر سے گزرنے کے دوران مسلسل مظاہروں کا سامنا ہوا ہے تاہم اسے ویت نام کے سب سے بڑے شہر، جو ماضی میں سائیگان کے طورپر معروف تھا، پریڈ کے دوارن کسی بڑے رخنے سے واسطہ نہیں پڑا۔ ویت نام کی حکومت نے اپنے اتحادی چین سے شمالی کوریا کے دار الحکومت پیانگ یانگ کی طرح کی مشعل کی پر امن دوڑ کا وعدہ کیا ہے۔ پیانگ یانگ میں ہزاروں لوگوں نے اس وقت خوشی کے نعرے لگائے اور ہاتھ ہلائے جب 80 کھلاڑی مشعل کو لے کر 20 کلومیٹر کے راستے سے گزرے۔ دنیا بھر کے بڑے شہروں میں اولمپک دوڑ کے راستوں میں کئی مظاہرے ہوئے جن کے دوران مظاہرین نے بیجنگ میں انسانی حقوق کیریکارڈ اور تبت اور چین کے دوسرے تبتی علاقوں میں حالیہ بد امنی پر چین کی کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا۔
Shortlink: