وزیراعلیٰ سیکیورٹی سے انکار کر دے تو پھر اس سے بڑی دھمکی اور کیا ہو گی , شہریار خان کا سوال

موہالی،کولکتا اور چنئی سمیت کسی بھی شہر میں کھیلنے کو تیار ہو جائیں گے ،حکومتی کلیئرنس کے بغیر مرد و خواتین کی قومی ٹیمیں بھارت نہیں جائیں گی،سابق کپتان عمران خان بہت سارے حقائق سے آگاہ نہیں،پی سی بی چیف

دھرم شالہ میں کھیلنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتے ، کسی بھی متبادل وینیو کو قابل غور سمجھنے میں خوشی محسوس ہو گی،کانگریس اور اس کے چیف منسٹر کے بیانات دورے پر آنے والی ٹیم کیلئے اعتماد اور حوصلہ مندی کا باعث نہیں ہیں لاہور،نئی دہلی(اسپورٹس ڈیسک)پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہریارخان نے بھارتی حکومت کے سامنے بڑا سوال اٹھا دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ ہی سیکیورٹی سے انکار کر دے تو پھر اس سے بڑی دھمکی اور کیا ہو سکتی ہے ،ان کا کہنا ہے کہ دھرم شالہ میں کھیلنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتے البتہ کسی بھی متبادل وینیو کو قابل غور سمجھنے میں خوشی محسوس ہو گی،کانگریس اور اس کے چیف منسٹر کے بیانات دورے پر آنے والی ٹیم کیلئے اعتماد اور حوصلہ مندی کا باعث نہیں ہیں،موہالی،کولکتا اور چنئی سمیت کسی بھی شہر میں کھیلنے کو تیار ہو جائیں گے لیکن حکومتی کلیئرنس کے بغیر مرد و خواتین کی قومی ٹیمیں بھارت نہیں جائیں گی،سابق کپتان عمران خان بہت سارے حقائق سے آگاہ نہیں ہیں جس کے سبب وہ بھارت جا کر کھیلنے کی حمایت کر رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف شہریار خان نے واضح الفاظ میں بھارت کو باور کرا دیا ہے کہ انہیں دھرم شالہ میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلنے کی قطعی کوئی خواہش نہیں اس کے برعکس وہ کسی بھی متبادل وینیو کو قابل غور سمجھنے میں خوشی محسوس کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور اس کے وزیراعلیٰ کے حالیہ بیانات دورے پر آنے والی ٹیم کیلئے اعتماد اور حوصلہ مندی کا باعث نہیں ہیں لہٰذا وہ اپنے کھلاڑیوں کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے ۔ ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ ویربھادرا سنگھ کی جانب سے 19مارچ کو دھرم شالہ میں پاک بھارت میچ کی مخالفت کے بعد اس معرکے کے انعقاد پر شکوک کے بادل گہرے ہو چکے ہیں۔ اگرچہ بی سی سی آئی کی جانب سے مسلسل پاکستانی کھلاڑیوں کی حفاظت کی یقین دہانی کرائی جا رہی ہے لیکن متعدد گروپس کی جانب سے اس میچ میں دخل اندازی کی دھمکیاں بھی جاری ہیں اور اس پہلو کو پیش نظر رکھتے ہوئے چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ پاکستانی ٹیم دھرم شالہ میں کھیلے بلکہ انہیں اس بات پر خوشی ہو گی کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کسی متبادل وینیو کا انتخاب کر لے کیونکہ وہ موہالی،چنئی اور کولکتا سمیت کسی بھی شہر میں کھیلنے کو تیار ہو جائیں گے ۔ پی سی بی چیف کا کہنا تھا کہ کانگریس پارٹی اور اس کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات دورے پر آنے والی ٹیم کا اعتماد اور حوصلہ بڑھانے میں ناکام ہیں اور اگر ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ بھی یہ بات کہیں کہ وہ پاکستانی ٹیم کو سیکیورٹی فراہم نہیں کر سکتے تو پھر اس سے بڑی دھمکی اور کیا ہو سکتی ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سے جانے والی سیکیورٹی ٹیم حالات کا جائزہ لے رہی ہے لہٰذا پاکستانی ٹیم کے بھارت جانے کا تمام تر انحصار حکومتی کلیئرنس پر ہے اور جب تک حکومت کی جانب سے اجازت نہیں مل جاتی قومی مرد اور خواتین کی کرکٹ ٹیمیں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شرکت کیلئے بھارت نہیں جائیں گی۔ شہریارخان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ٹیمیں بھارت بھیجنا چاہتے ہیں لیکن اس کیلئے بھارتی حکومت کو سیکیورٹی کی ضمانت بھی دینا ہوگی۔انہوں نے سابق کپتان عمران خان کی جانب سے بھارت جا کر کھیلنے سے متعلق بیان کے جواب میں کہا کہ وہ اس معاملے میں تمام تر حقائق سے واقف نہیں ہیں اور اس وجہ سے وہ بھارت جا کر کھیلنے کی حمایت کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.