کاتالونیا ریفرنڈم :سپین سے آزادی کے حق میں فیصلہ

میڈرڈ: اسپین کے خودمختار علاقے کاتالونیا میں ہونے والے متنازع ریفرنڈم میں 90 فیصد ووٹرز نے اسپین سے آزادی کے حق میں ووٹ دے دیا۔
ریفرنڈم کے نتائج سامنے آنے کے بعد کاتالونیا کی انتظامیہ نے کہا ہے یورپی یونین اسپین کی حکومت سے علیحدگی کے حوالے سے مذاکرات میں مدد کرے بصورت دیگر وہ یکطرفہ طور پر اسپین سے علیحدگی اور آزادی کا اعلان کرسکتی ہے۔ اسپین کے علاقے کاتالونیا میں گزشتہ روز علیحدگی کا ریفرنڈم ہوا تھا جس میں مرکزی حکومت کی مکمل مخالفت کے باوجود 90 فیصد ووٹرز نے اسپین سے آزادی کے حق میں ووٹ دیا۔
اسپین کی حکومت اور سپریم کورٹ نے اس استصواب رائے کو غیر قانونی قرار دیا تھا جس کے بعد ہسپانوی پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ریفرنڈم کو روکنے کی بھرپور کوشش کی اور پولنگ اسٹیشنز کو بند کرکے وہاں موجود ووٹرز کو منشتر کرنے کے لیے ان پر ربڑ کی گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں 900 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔
بارسلونا میں ایک حکومتی ترجمان نے بتایا کہ ووٹ دینے کے اہل شہریوں کی تعداد 53 لاکھ تھی، جن میں سے 50 فیصد سے بھی کم نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ کاتالونیا کے رہنما کارلیس پوئیدےمونت کا کہنا ہے کہ عوام نے علیحدہ وطن کے حصول کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے، ریفرنڈم میں ٹرن آؤٹ 42.3 فیصد رہا۔
ریفرنڈم کے بعد کاتالونیا کی علاقائی حکومت کے سربراہ کارلیس پوئیدے مونت نے مطالبہ کیا کہ اسپین کے اس خطے کو اب ایک خود مختار ریاست بن جانا چاہیے۔ دوسری طرف ہسپانوی وزیر اعظم ماریانو راخوئے نے اس ریفرنڈم کو غیر مؤثر قرار دیا ہے کیونکہ اسپین کی آئینی عدالت نے اسے غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔ ہسپانوی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر ریفرنڈم کے نتائج کو منسوخ نہ کیا گیا تو کاتالونیہ کی خودمختار ریاست کی حیثیت ختم کردی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.