بھارت نے انڈونیشیا میں چاول کی پاکستانی برانڈز اپنے نام کرالیں

کراچی: باسمتی چاول کے لیے انڈونیشیا کی وسیع منڈی پر بھارت کا غلبہ ہوگیا۔ بھارت نے انڈونیشیا میں باسمتی چاول کی پاکستانی برانڈز کو بھارت کے نام رجسٹرڈ کرالیا، انڈونیشیا میں پاکستانی سفارتخانہ، کمرشل قونصلیٹ اور وفاقی وزارت تجارت منہ دیکھتے رہ گئے۔

اس بات کا انکشاف چاول کے پاکستانی ایکسپورٹرز کے وفد کے حالیہ دورہ انڈونیشیا میں ہوا ہے۔ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین رفیق سلیمان کے مطابق انڈونیشیا کے دورے میں پاکستانی ایکسپورٹرز کو اس وقت شدید حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب یہ معلوم ہوا کہ بھارت نے پاکستانی باسمتی چاول کی برانڈز کو انڈونیشیا میں بھارتی چاول کے طور پر رجسٹرڈ کرالیا ہے۔ انڈونیشیا میں پاکستانی چاول کی کھپت کے وسیع مواقع موجود ہیں تاہم انڈونیشیا کے ساتھ ترجیحی تجارت کے معاہدے کے باوجود تجارت توازن میں نہیں ہے اور اس معاہدے کا فائدہ انڈونیشیا کو پہنچ رہا ہے۔

انڈونیشیا پاکستان کو سالانہ سالانہ 2ارب 20کروڑ ڈالر مالیت کی اشیا ایکسپورٹ کررہا ہے جن میں پام آئل اور کول سرفہرست ہیں۔ انڈونیشیا کے ساتھ تجارت کو متوازن بنانے میں پاکستانی چاول اہم کردار ادا کرسکتے ہیں تاہم اس کے لیے سرکاری سطح پر کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاول کی انٹرنیشنل مارکیٹ میں پہلے ہی سخت مسابقت کا سامنا ہے، تھائی لینڈ نے 15لاکھ ٹن چاول مارکیٹ میں سپلائی کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت تجارت اور ٹریڈڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان فوری طور پر چاول کے برآمدکنندگان پر مشتمل وفود کو بیرونی ممالک خاص طورپر چائنا، ملائیشیا، فلپائن، سعودی عرب، یورپی ممالک اور افریقین ممالک کی مارکیٹوں میں پاکستانی چاول کی تشہیر کرنے کے اقدامات کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں