سمندر میں مچھلی کی طرح دیکھنے والے تیراک بچے

تھائی لینڈ: تھائی لینڈ کے دور دراز جزیروں پر رہنے والے ایک قبیلے کے بچے دیکھنے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتے ہیں اور اسی بنا پر انہیں ’’سمندری خانہ بدوش‘‘ کہا جاتا ہے۔ تھائی لینڈ کے موکن قبیلے سے تعلق رکھنے والے یہ بچے سمندر کی گہرائی میں بہت اچھی طرح دیکھتے ہیں اوران کی بصارت یورپی بچوں سے دُگنی اچھی ہے۔
بعض لوگوں کے مطابق وہ سمندر میں ایسے ہی دیکھ سکتے ہیں جس طرح کوئی ڈولفن دیکھتی ہے۔1999 میں سویڈن کے ماہرین کی ایک ٹیم نے تھائی لینڈ کا دورہ کیا وہاں موکن آبادی کے لوگ بانسوں پر بنے ہوئے گھروں میں رہتے ہیں اور جوں ہی اونچی لہر آتی ہے وہ پانی میں چھلانگ لگا کر مچھلیاں پکڑتے ہیں۔
یہاں تک کہ مزید گہرائی میں جاکر سیپیاں گھونگھے اور فرش سے چپکے دیگر سمندری جاندار بھی لے آتے ہیں۔بچوں کی اس مہارت کو دیکھ کر ان کی نظروں کے مختلف ٹیسٹ لیے گئے۔ پہلے انہیں افقی اور عمودی لائنوں والے کارڈ دکھائے گئے جو اس سے قبل یورپی بچوں پر آزمایا گیا تھا۔ ماہرین حیران رہ گئے کہ موکن بچوں کی نظر ان کے مقابلے میں دُگنی بہتر تھی۔ دوسری بات یہ ہے کہ پانی کے اندر انسانی آنکھ کے قرنیہ کی انعطافی (ریفریکٹو) متاثر ہوتی ہے اور عام لوگ پانی میں ٹھیک سے نہیں دیکھ پاتے لیکن موکن بچے بہت آرام سے پانی کے اندر بھی تفصیل سے دیکھ سکتے ہیں۔
ماہرینِ چشم کے مطابق ان بچوں میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ انسانی حد سے بھی آگے اپنی آنکھوں کی پتلیاں سکیڑ سکتے ہیں لیکن ان کی نظر متاثر نہیں ہوتی۔ سمندر کے انتہائی نمکین پانی میں ان کی آنکھیں نہیں جلتیں۔ یہ بات حیرت انگیز ہے کہ موکن بچوں کی پتلیاں اور آنکھوں کے لینس کی شکل ذرا مختلف ہے اور یہ صلاحیت ڈولفن اور سیلز میں بھی موجود ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.