اگر ہم گھروں کو گئیں تو ہمارے ختنے کر دیے جائیں گے،کینیا میں سکول کی لڑکیوں نے خدشہ ظاہر کر دیا

نیروبی:خواتین کے ختنوں کی جان لیواروایت اب تک دنیا کے کئی ممالک میں پائی جاتی ہے۔ کینیا بھی ایسے ملکوں میں سے ایک ہے جہاں اس وقت سینکڑوں لڑکیوں نے ختنوں کے خوف سے گھر جانے سے انکار کر دیا ہے اور اپنے سکولوں میں پناہ لے رکھی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ان لڑکیوں کو ڈر ہے کہ اگر وہ گھر گئیں تو ان کے والدین زبردستی ان کے ختنے کروا دیں گے۔کینیا میں ایک ماہ قبل سکولوں میں چھٹیاں ہو چکی ہیں لیکن لڑکیوں کے لیے یہ سکول چھٹیوں کے باوجود کھلے ہیں کیونکہ انہوں نے سکولوں سے نکلنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کے علاوہ سینکڑوں لڑکیوں نے مسیحی عبادت گاہوں میں بھی پناہ لے رکھی ہے۔
بظاہر معصوم نظر آنے والی یہ لڑکیاں جب مجرموں سے پوچھ گچھ کرتی ہیں تو القاعدہ کے خطرناک ترین جنگجو بھی منٹوں میں ہی فر فر بولنا شروع کردیتے ہیں، تشدد نہیں کرتیں بلکہ۔۔۔ ایسا طریقہ کہ جان کر آپ بھی حیران پریشان رہ جائیں گے رپورٹ کے مطابق 14سال ایلیس جیبیٹ کا کہنا ہے کہ ”اب تک کینیا میں اس رسم کے باقی ہونے کی مالی وجوہات بھی ہیں اور ثقافتی بھی۔ یہاں والدین اپنی بیٹیوں کو اس لیے بھی ختنے کروانے پر مجبور کرتے ہیں کیونکہ وہ جہیز لینا چاہتے ہیں۔جب لڑکیاں ختنے کرواتی ہیں تو اس سے قبل ہی والدین نے ان کی شادی طے کر رکھی ہوتی ہے۔
ختنوں کے فوراً بعد والدین لڑکیوں کو ان کے شوہروں سے متعارف کرواتے ہیں اور پھر ان شوہروں کے خاندان لڑکیوں کے والدین کو جہیز میں گائیں دیتے ہیں۔ میرے والدین بھی اسی لالچ میں میرے ختنے کروانا چاہتے لیکن لیکن میں نے چرچ میں پناہ لے رکھی ہے۔“رپورٹ کے مطابق کینیا میں لڑکیوں کے ختنے 2011ءمیں غیرقانونی قرار دیئے جا چکے ہیں لیکن اب بھی ملک کے کئی علاقوں میں یہ رسم پائی جاتی ہے۔دسمبرکے مہینے میں چونکہ سکولوں میں چھٹیاں ہوتی ہیں لہٰذا اس عرصے میں بڑے پیمانے پر لڑکے لڑکیوں کے ختنے کیے جاتے ہیں، لیکن اس بار سینکڑوں لڑکیوں نے سکولوں میں ہی پناہ لے رکھی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.