چکن کھانے کے شوقین ہوشیار،خطرناک اینٹی بائیوٹکس بیکٹیریا کے پھیلنے کاانکشاف،رپوٹ

لندن( ویب ڈیسک)برطانیہ کے ماہرین نے سپر بگ جو دراصل بیکٹریا کی ایک قسم سلمونیلا ہے کو ایک مریض کے خون میں دریافت کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ماہرین نے ڈنمارک کے ایک مریض کے خون میں سلمونیلا کے اثرات پائے ہیں جو ایک لاعلاج خون کے انفیکشن کی وجہ ہے۔ماہرین نے اس لا علاج انفیکشن سے پوری دنیا کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین سے درآمد ہونے والی مرغیوں کو اس انفیکشن کی وجہ بتایا جا رہا ہے کیونکہ ماہرین کو اس مرغیوں کے گوشت کے 5 سمپلز میں لاعلاج سلمونیلا کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں۔ ڈنمارک کے سائنسدانوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ حیران ہیں کہ یہ بگ برطانیہ میں پہلے سے موجود نہیں تھا حالانکہ برطانیہ ڈنمارک سے کہیں زیادہ بڑا ملک اور خوراک کی تجارت میں بھی ڈنمارک سے آگے ہے ۔رپورٹ کے مطابق اس انفیکش کی مریض میں دریافت چین کے اعلان کے دو ہفتے بعد ہوئی کہ سپر بگ اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحم ہیں۔چین کے سائنسدانوں نے خبردار کیا کہ یہ سپر بگ بہت تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے تاہم برطانیہ کے ماہرین کا کہنا تھا کہ جس تیزی سے یہ انفیکشن چین سے برطانیہ تک پہنچا ہے واقعی حیران کن ہے۔

ماہرین کی رپورٹ کے مطابق جین ایم سی آر 1 جو ،ای کولائی، سلمونیلا اور دیگر جرمز میں موجود ہوتا ہے لا علاج نمونیا کا باعث بنتا ہے۔اس جین کی بیکٹریا میں موجودگی بیکٹریا کو ہر طرح کی اینٹی بائیوٹیک کے خلاف مزاحم بنا دیتی ہے۔یہ بگ آسانی سے ایک بیکٹیریا سے دوسرے بیکٹیریا میں پھیل سکتا ہے جس کا مطلب ہے کہ سپر بگ کی جانوروں سے انسانوں میں منتقلی آسانی سے ہو سکتی ہے۔جین ایم سی آر1 کی مزید تحقیق کرنے پر چینی ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ جین مرغیوں کے 5 سپملز اور ایک مریض کے خون میں پایا گیا ہے۔

ماہرین کی رپورٹ کے مطابق اس انفیکشن سے متاثرہ شخص کئی سال سے خون کے انفیکش کا شکار تھا اور رپورٹ میں اس کے خون میں موجود سلمونیلا میں جین ایم سی آر 1 پایا گیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھاکہ اس انفیکشن کا شکار مریض کے پاس علاج کا کوئی آپشن موجود نہیں ہوتا تاہم کولسٹین وہ آخری چوئس ہے جسے اس طرح کی بیماری میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔کولسٹین پولٹری میں بہت زیادہ استعمال کی جاتی ہے اور اس اینٹی بائیوٹیک کے زیادہ استعمال سے بیکٹریا اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت پیدا کر رہے ہیں۔ ماہرین نے کولسٹین کو ایگریکلچر میں استعمال کو کم کرنے کا حکم دیا ہے اور یورپ کے ماہرین نے اس سپر بگ کے خلاف ادویات بنانے کے لیے کوشش جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.