کیا ماسک دوبارہ قابل استعمال ہیں؟ حقائق جانئے

کرونا وبا کی دوسری لہر پوری دنیا میں شدت کے ساتھ جاری ہے، ایسی صورت میں استعمال شدہ ماسک کو دوبارہ قابل استعمال میں لانے کی بازگشت بھی سنائی دینے لگی ہے۔
طبی ماسک کے دوبارہ عدم استعمال کے حوالے سے دنیا بھر کے طبی ماہرین کی نہایت واضح ہدایات ہیں تاہم کچرے کے ڈھیر میں اضافے اور شہریوں پر اخراجات کے بوجھ کے بڑھ جانے کے ساتھ اس بات کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں کہ ان ماسک کو مقررہ شرائط کے مطابق دوبارہ استعمال میں لایا جائے۔ عالمی ادارہ صحت کی واضح ہدایات ہیں کہ فیس ماسک فقط ایک مرتبہ استعمال کیے جاتے ہیں اور استعمال شدہ ماسک کو فوری طور پر پھینک دینا چاہیے،تاہم ماسک کی شدید قلت کی صورت میں جیسا کہ کرونا وائرس پھیلنے کے ابتدائی مراحل میں ہو چکا ہے، عالمی ادارہ صحت نے اب ایسے غیر معمولی اقدامات کی منظوری دی ہے جن کے ذریعے ماسک کی دوبارہ استعمال کے واسطے تطہیر عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی ڈرگ ایجنسی ہنگامی حالات میں طبی کارکنان اور عملے کے لیے این نائنٹی فائیو ماسک کی تطہیر(پانی وغیرہ سے دھو کر صاف کرنا) کی اجازت دے چکی ہے اور اس مقصد کے لیے ماسک پر ہائیڈروجن پرآکسائڈ کا چھڑکاؤ استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، اس کے علاوہ تطہیر کے دیگر طریقے بھی ہیں۔ ان میں ماسک کو بلند درجہ حرارت میں رکھنا یا الٹرا وائلٹ شعاؤں کا استعمال شامل ہے۔صحت و صفائی کے ماہر ڈاکٹر ڈونی کورپے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ماسک کی تطہیر کا معاملہ عام افراد کے لیے قابل عمل نہیں، ان کے نزدیک ماسک پر پائے جانے والے وائرسز سات روز کے اندر مکمل طور پر مر جاتے ہیں۔
اسی طرح ہانگ کانگ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں جو دی لانسٹ جریدے میں شائع ہوئی میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایک ہفتے بعد ماسک کی بیرونی جانب جن وائرسز کا پتہ چلایا جا سکتا ہے ان کا تناسب صرف 0.1 فی صد رہ جاتا ہے۔دوسری جانب الیکٹرک چارج ٹیکنالوجی کے بانی پیٹر تسائی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ماحولیات کے تحفظ کے باعث لوگوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ سات روز بعد ماسک کا دوبارہ استعمال کریں، انہوں نے اپنا طریقہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ماسک کو اوون میں 70 سے 75 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رکھ کر وائرس کو ہلاک کیا جا سکتا ہے، مگر ماسک کو دھونا نہیں چاہیے۔
فرانس میں صارفین کے تحفظ سے متعلق گروپ او ایف سی کو شوازیر کی تحقیق کے مطابق قابل دھلائی ماسک کپڑے کے ماسک سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں، اسی طرح ایک فرانسیسی محقق ماہر نے واضح کیا ہے کہ بہتر ہے کہ ماسک کو ہر چار گھنٹوں میں تبدیل کیا جائے اور اسے دھویا جائے۔
فرانس میں صحت عامہ کے ڈائریکٹوریٹ اس بات پر زرو دیتے ہیں کہ طبی ماسک کو استعمال کے بعد پھینک دینے کی ضرورت ہے، ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ فرانس میں بھی ماسک کو دوبارہ استعمال کرنے کا معاملہ ابھی زیر غور ہے۔امریکا میں بینگہیمٹن یونیورسٹی کے طبی ماہر کیمینگ کا کہنا ہے کہ ٓمیں نہیں سمجھتا کہ طبی ماسک قابل دھلائی ہوتے ہیں، اس کے لیے گہرے تحقیقی مطالعے کی ضرورت ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.