لالہ کا پلان تبدیل ہونے لگا:ٹی ٹوئنٹی سے ریٹائرمنٹ نہ لینے کے شدید"دبائو"میں مبتلاہ

فیملی کے بزرگوں اور دوستوں کا خیال ہے کہ مختصر فارمیٹ سے الگ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں،میگا ایونٹ کے بعد فیصلہ کروں گا،شاہد آفریدی

دبئی(اسپورٹس ڈیسک)ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد ریٹائرمنٹ کے فیصلے پر ڈانواڈول ’’لالہ‘‘کا پلان تبدیل ہونے لگا جو ٹی ٹوئنٹی سے ریٹائرمنٹ نہ لینے کے شدید ’’دباؤ‘‘میں مبتلا ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ فیملی کے بزرگوں اور دوستوں کا خیال ہے کہ مختصر فارمیٹ سے فی الحال الگ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں البتہ وہ میگا ایونٹ کے بعد اس بات کا حتمی فیصلہ کریں گے ۔ قومی ٹی ٹوئنٹی کپتان شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد اپریل میں وہ ریٹائرمنٹ نہ لینے کے حوالے سے شدید دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ فیملی،بزرگوں اور دوستوں کا اصرار ہے کہ وہ فی الحال مختصر فارمیٹ سے علیحدگی اختیار نہ کریں۔ یکم مارچ کو اپنی 36 ویں سالگرہ کے منتظر شاہد آفریدی اب صرف مختصر فارمیٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں اور انہوں نے ارادہ ظاہر کیا تھا کہ وہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد ریٹائرمنٹ لے لیں گے تاہم اب محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس کیلئے اپنا ذہن نہیں بنا سکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں کہنا چاہتے کہ مسلسل کھیلتے رہیں گے مگر ان پر یہ دباؤ ضرور ہے کہ ابھی ریٹائرمنٹ نہ لیں کیونکہ پاکستان میں اتنی صلاحیت سامنے نہیں آ رہی جس کا انہوں نے راستہ روک رکھا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ فیملی کے علاوہ ان پر دوستوں اور بزرگوں کی جانب سے بھی شدید دباؤ ہے جو مسلسل ایک ہی بات کہہ رہے ہیں کہ ابھی ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ وہ فی الوقت صرف ورلڈ ٹی ٹوئنٹی پر متوجہ ہیں جو ان کیلئے انتہائی اہم ٹورنامنٹ ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے یہ دیکھیں گے کہ میگا ایونٹ میں پاکستانی ٹیم کہاں کھڑی ہوتی ہے اور وہ اپنی کارکردگی سے اسے آگے لے کر جا سکتے ہیں یا نہیں۔ ’’لالہ‘‘ کے مطابق وہ خود کو بھی دیکھیں گے کہ کہاں اسٹینڈ کر رہے ہیں کیونکہ جہاں تک کھیلنے کی بات ہے تو ان کی فٹنس زبردست ہے اور توانائی کی بدولت وہ کرکٹ کھیل سکتے ہیں مگر حتمی فیصلہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.