قومی ٹیم کی بیٹنگ لائن مسلسل نا کام, معلوم نہیں کھلاڑیوں کو کس بات کا خوف ہے, وقار یونس

مشکلات بدستور موجود ہیں اور ٹاپ آرڈر بیٹسمین رنز نہیں کر رہے ،نئی گیند پر بیٹنگ آسان نہیں لیکن اس کا کوئی حل نکالنا ہوگا،ہیڈ کوچ

میرپور(اسپورٹس ڈیسک) ایشیاء کپ میں بھارت کیخلاف کمتر اسکور پر آؤٹ ہونے ہونے والی پاکستانی بیٹنگ لائن یو اے ای کیخلاف بھی لڑکھڑائی اور پھر سنبھل گئی لیکن ہیڈ کوچ وقار یونس بیٹنگ لائن کی مسلسل ناکامی پر پریشانی کا شکار ہیں جن کا کہنا ہے کہ مشکلات بدستور موجود ہیں اور ٹاپ آرڈر بیٹسمین رنز نہیں کر رہے اور باوجود اس کے کہ کنڈیشنز کے اعتبار سے نئی گیند پر بیٹنگ آسان نہیں مگر اس کا کوئی حل نکالنا ہوگا۔ وقار یونس کا کہنا تھا کہ یو اے ای کیخلاف فتح پر سکھ کا سانس لینے کی جہاں تک بات ہے تو وہ ہمیشہ ہی سکھ کا سانس لیتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ٹاپ آرڈر بیٹسمینوں نے ایک مرتبہ پھر رنز نہیں کئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کی کنڈیشنز ایسی ہیں کہ نئی گیند پر بیٹنگ مشکل ضرور ہے لیکن اس کا بھی کوئی حل نکالنے کی ضرورت ہے کیونکہ بنگلہ دیش اور سری لنکا کیخلاف میچز انتہائی اہم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت ٹیم کی بیٹنگ لائن میں تبدیلیوں کا فیصلہ نہیں کیا مگر خوشی اس بات کی ہے کہ پاکستانی ٹیم نے کامیابی کا کھاتہ کھول لیا ہے ۔ ہیڈ کوچ کے مطابق شعیب ملک اور عمر اکمل نے جس انداز سے بیٹنگ کی اس کو دیکھ کر ان میں پختگی دکھائی دی کیونکہ انہوں نے تین وکٹیں جلد گرجانے کے بعد دباؤ کو برداشت کیا اور ذمہ دارانہ بیٹنگ کی حالانکہ رن ریٹ بڑھتا جا رہا تھا مگر امید تھی کہ دونوں کھیلتے رہے تو صورت حال اپنے حق میں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وقاریونس کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم اب بھی اس ٹورنامنٹ میں ایک قوت کے طور پر موجود ہے لیکن اس کیلئے اسے اگلے دونوں میچوں میں غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی دباؤ کے بغیر کھیلی جانے والی کرکٹ ہے اور انہیں نہیں معلوم کہ پاکستانی کرکٹرز کو کس بات کا خوف ہے کہ وہ بیٹنگ کے دوران مسائل کا شکار ہو رہے ہیں اور انہیں اسی پہلو پر کام کرنا ہوگا جو مسئلہ بنتا جا رہا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.