قومی کرکڑز پر مزید باؤ پڑے گا, وسیم اکرام نے پی سی بی انکوائری کمیٹی کو مسترد کر دیا

یشیاء کپ میں ناکام کارکردگی کی تحقیق کا کوئی فائدہ نہیں،کیا اب مصباح الحق اور یونس خان ہیڈ کوچ سے سوالات کریں گے ،سابق کپتان

کراچی (طارق حسین) ایشیاء کپ میں گرین شرٹس کی ناقص کارکردگی کے جائزے کیلئے تشکیل دی جانے والی پی سی بی انکوائری کمیٹی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا ہے کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ قومی کرکٹرز پر مزید دباؤ پڑنے کا اندیشہ ہے اور کیا اب کمیٹی میں شامل مصباح الحق اور یونس خان ہیڈ کوچ وقار یونس سے سوالات کریں گے ۔ کراچی کے مقامی ہوٹل میں میڈیا کانفرنس کے دوران وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ کمیٹی میں مصباح الحق اور یونس خان کو شامل کیا گیا ہے جبکہ اقبال قاسم کے علاوہ دیگر دو افراد شکیل شیخ اور سبحان احمد کرکٹرز ہی نہیں لہٰذا ایسی کمیٹی بنانے کا کوئی جواز ہی نہیں ہے ۔ وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ کیا اب مصباح الحق اور یونس خان ہیڈ کوچ وقار یونس سے انکوائری کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت قومی کرکٹرز کیخلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کی نہیں بلکہ انہیں سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کا اعتماد بحال ہو۔ ایک سوال پر وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کیلئے اس وقت شاہد آفریدی کے علاوہ کوئی اور کپتان موزوں نہیں کیونکہ میگا ایونٹ سر پر ہے اور ایسے میں بڑی تبدیلیوں کے نتائج سنگین بھی ہو سکتے ہیں جبکہ آفریدی کو کپتان بنانا مجبوری بھی ہے کیونکہ اس وقت ان کا کوئی متبادل کھلاڑی بھی بورڈ کے پاس نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عالمی معیار کے کرکٹرز پیدا نہیں ہو رہے اور جو دستیاب کھلاڑی ہیں ان پر ہی اعتماد کرنا ہو گا۔ وسیم اکرم کا مزید کہنا تھا کہ پی سی بی کا سربراہ کوئی سابق کرکٹر ہی ہونا چاہئے کیونکہ وہی اس کھیل کے معاملات کو بہتر انداز میں ہینڈل کرسکتا ہے ۔ سابق کپتان کا کہنا تھا کہ ایشیاء کپ میں گرین شرٹس کی کارکردگی پر پوری قوم کی طرح ان کو بھی مایوسی ہوئی کیونکہ ٹیم انتظامیہ کی جانب سے کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آئی حالانکہ میگا ایونٹس میں مربوط حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترنا چاہئے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.