منیجر کی جانب سے سب اچھا کے گیت, ہیڈ کوچ سلیکشن معاملات میں شمولیت کے خواہاں

اگر شکست کیلئے ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے تو پھر مجلس انتخاب میں بھی کردار رکھا جائے ،جب کوچ کو ناکامیوں کے بعد تنقید سہنا پڑتی ہے تو اس کا حتمی پندرہ کھلاڑیوں کو سلیکٹ کرنے میں عمل دخل بھی ہونا چاہئے ،وقار یونس

بنگلہ دیشی کنڈیشنز کے سبب بیٹسمین پرفارم نہیں کر سکے لیکن بھارت میں ماحول سازگار ہوگا،سری لنکا کیخلاف کامیابی سے مورال بہتر ہوا اور کھلاڑی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں کامیابی کا تسلسل برقرار رکھیں گے ، انتخاب عالم میرپور، لاہور (اسپورٹس ڈیسک) ایشیاء کپ میں پاکستانی ٹیم کی ناکامی کے باوجود منیجر انتخاب عالم سب اچھا کے گیت گانے لگے جبکہ ہیڈ کوچ وقار یونس نے ایک بار پھر سلیکشن معاملات میں شمولیت کی خواہش ظاہر کر دی ہے ،وقار یونس کا کہنا تھا کہ اگر انہیں شکست کیلئے ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے تو پھر ان کا مجلس انتخاب میں بھی کردار رکھا جائے کیونکہ جب کوچ کو ناکامیوں کے بعد تنقید سہنا پڑتی ہے تو اس کا حتمی پندرہ کھلاڑیوں کو سلیکٹ کرنے میں عمل دخل بھی ہونا چاہئے ،انتخاب عالم کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیشی کنڈیشنز کے سبب بیٹسمین پرفارم نہیں کر سکے لیکن بھارت میں ماحول سازگار ہوگا،سری لنکا کیخلاف کامیابی سے مورال بہتر ہوا اور کھلاڑی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں کامیابی کا تسلسل برقرار رکھیں گے ۔ پاکستان روانگی سے قبل میرپور میں ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹیم کی ناقص کارکردگی پر ہیڈ کوچ کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے تو سلیکشن کمیٹی میں بھی اس کو شامل کیا جانا چاہئے اور وہ اسی وجہ سے کوچ کی سلیکشن کمیٹی میں شمولیت کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ٹیم کے ہارنے پر کوچ کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو پھر پندرہ کھلاڑیوں کی سلیکشن میں بھی اس کا عمل دخل ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کیخلاف میچ میں پاکستان کی بیٹنگ نے کلک کیا تو پاکستان آسانی سے میچ جیت گیا اور اسی طرح ٹیم کا مورال بہتر ہوگا جو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی مفید ثابت ہوگا۔ وقار یونس کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ ایشیاء کپ میں قومی ٹیم کی ٹاپ آرڈر بیٹنگ ناکام ہوئی لیکن مثبت پہلو یہ ہے کہ محمد عامر ،وہاب ریاض اور محمد عرفان پر مشتمل قومی بالنگ اٹیک نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ابتدائی بیٹسمینوں کی جانب سے مایوسی ہوئی لیکن پاکستان کی مڈل اور لوئر آرڈر بیٹنگ نے اچھا پرفارم کیا جس میں شعیب ملک ،عمر اکمل اور سرفرازاحمد بھی شامل تھے ۔ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ میڈیا سمیت ہر ایک نے پاکستانی بیٹسمینوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا مگر حقیقت یہی ہے کہ بنگلہ دیشی کنڈیشنز بیٹنگ کیلئے موزوں نہیں تھیں اور ایشیاء کپ میں شامل تمام ٹیموں کے اوپننگ بیٹسمینوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وقار یونس نے کہا کہ محمد عرفان لمبے قد کا ہے جس کی وجہ سے فیلڈنگ کرتے ہوئے اس کو مشکلات کا سامنا کرنا ہوتا ہے لیکن وہ ٹیم کا اثاثہ ہے ۔احمد شہزاد کی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں ممکنہ شمولیت پر ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں سلیکٹرز ہی بتاسکتے ہیں لیکن ابھی تک انہیں اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ۔وقار یونس نے کہا کہ ٹیم کی ایشیاء کپ میں مایوس کن کارکردگی پر پی سی بی نے تحقیقاتی کمیٹی قائم کی ہے تو انہیں بھی اس کے سامنے پیش ہونے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا کیونکہ انہوں نے اپنے فرائض انتہائی ایمانداری سے سر انجام دیئے تاہم ٹیم پرفارم نہ کرے تو تنقید بھی ہوتی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند ماہ سے ٹیم کی کارکردگی اچھی نہیں اورسلیکشن کمیٹی ایک اچھے کامبی نیشن کی تلاش میں ہے جس کے پاس 8 مارچ تک کا وقت ہے اور وہ مل بیٹھ کر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیلئے مزید بہتر کھلاڑیوں کا چناؤ کرسکتی ہے ۔ قومی کرکٹ ٹیم کے منیجر انتخاب عالم کا کہنا تھا کہ سری لنکا کیخلاف آخری میچ میں جیت سے پاکستان ٹیم کا مورال بلند ہوا ہے اور ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کامیابی کے اس تسلسل کو برقرار رکھے گی ۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی کنڈیشنز کی وجہ سے دیگر ٹیموں کی طرح ان کے ٹاپ آرڈر بیٹسمین بھی پرفارم نہیں کرسکے لیکن بھارت میں وکٹیں بیٹنگ کیلئے موزوں ہوں گی جو پاکستان کیلئے ایڈوانٹیج ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ قومی ٹیم کے پاس بہترین بالنگ اٹیک ہے جو کسی بھی قسم کے حالات میں پرفارم کر سکتا ہے اور نوجوان کھلاڑی بھارت سمیت کسی بھی ٹیم کو ہرانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور انہیں بتا دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے دباؤ میں مبتلا نہ ہوں۔ انتخاب عالم نے کہا کہ ڈسپلن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جارہا اور تمام کھلاڑی اس کی سختی سے پابندی کررہے ہیں اور فاسٹ بالر محمد عامر نے بھی شکایت کا موقع نہیں دیا ۔انہوں نے کہا کہ ایک اچھی کارکردگی کے بعد کھلاڑی کو ہیرو اور اگلی اننگ میں خراب پرفارمنس کے بعد زیرو بنا دینا درست نہیں ہے اور ویسے بھی اہم ایونٹ سے قبل پوری قوم کو ٹیم کی سپورٹ کرنا چاہئے تاکہ ان کے اعتماد میں اضافہ ہو۔ انتخاب عالم نے کہا کہ پاکستانی ٹیم باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اور دنیا کی کسی بھی ٹیم کو ہرانے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.